مقدر کا لکھا پر کوششوں سے کیا بدلتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

پڑا رونا، وہیں بیٹھے وہ اب تک ہاتھ ملتا ہے
مقدر کا لکھا پر کوششوں سے کیا بدلتا ہے

نمی آئے نظر کیسے کہ صحرا ہیں مری آنکھیں
مگر صحرا کے پیچھے غم کا اک طوفاں بہتا ہے

مرے اندر ہیں چیخیں اور لب پر گہری خاموشی
مرا دل غم کی سب باتوں کو بس چپ چاپ سہتا ہے

مجھے اس سے گلہ ہو کیوں جو اس نے مجھ کو نہ چاہا
بنا مطلب بھی کیا کوئی کسی سے پیار کرتا ہے

ڈسے ہم ہیں، ڈسے تم ہو، مگر دشمن نہیں ملتا
کہیں باہر نہیں یہ سانپ، گھر آنگن میں پلتا ہے

تمنا کر کے کیا پایا ، تمنا کس لیے آخر ؟
نہ دل ہو سینے میں وشمہ جو صبح شام جلتا ہے

Rate it: Views: 11 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 29 May, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4332 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.