اپنا خیال نہیں رکھتا
Poet: طارق اقبال حاوی
By: Tariq Iqbal Haavi, Lahore

وہ ہر کال کے آخر میں
مجھ سے کہتی ہے کہ
”اپنا خیال رکھنا“
اور میں بھی مسکرا کے
کہہ دیتا ہوں کہ ”ٹھیک ہے“
مگر وہ یہ نہیں جانتی
کہ جب وہ یاد آتی ہے
تو میں کن کن سوچوں
اور کیسے کیسے خیالوں میں
کھو جاتا ہوں۔۔۔
اور اسکی یادیں میری سوچوں کے گرد
گھیرا ڈال لیتی ہیں
اس سے کی ہوئی باتیں
مجھے حوصلہ اور دل کو
حد سے زیادہ خوشی دیتی ہیں
ایسا کوئی دن نہیں
جو مجھے تیری یاد سے
بے حال نہیں رکھتا
میں ”ٹھیک ہے“
کہہ تو دیتا ہوں مگر
اپنا خیال نہیں رکھتا

Rate it: Views: 17 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 15 Feb, 2018
About the Author: Tariq Iqbal Haavi

میں شاعر ہوں ایک عام سا۔۔۔
www.facebook.com/tariq.iqbal.haavi
.. View More

Visit 100 Other Poetries by Tariq Iqbal Haavi »
 Reviews & Comments
very Nice
good luck be happy and stay bless
By: uzma, Lahore on Feb, 19 2018
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.