سویا ہوا جہان ہے کن مشکلات میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااک دشت بے کنار ہے اس میری ذات میں
سویا ہوا جہان ہے کن مشکلات میں
اپنی نظر سنوار کے دیکھا جو آپ کو
اک آپ کا ہی سلسلہ تھا کائنات میں
آنکھوں سے اب حضور ! اشارہ نہ کیجئے
اور یوں نہ آزما ئیے اب بات بات میں
غم خانہءِ غریب ہے رک جایئے مزید
کیسے بھرے گا زخمِ جگر ایک رات میں
رخسار و ابرو ،گیسو و لب ، سب اداس ہیں
رہتی ہے سب کے دیکھ لو تنہائی گھات میں
وہ لکھ دے آج میری بھی قسمت کا فیصلہ
وشمہ جگر کا خون ہے کالی دوات میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






