تمہارے ساتھ چلنا ہے
Poet: Muhammad Noor uz Zaman Tayyab By: Muhammad Noor uz Zaman Tayyab, Islamabadاجازت دو زرا ہم کو
تمہارے ساتھ چلنا ہے
دل امید کو ہم نے
تمہا رے نام کرنا ہے
جہاں کی ساری یہ خو شیاں
تمہارے نام کرنی ہیں
بچی اپنی یہ چند سانسیں
تمہارے نام کرنی ہیں
بیتے وقت کے خوش پل
تمہارے نام کرنے ہیں
وہ بہتے شبنمی آنسو
تمہارے نام کرنے ہیں
یہ جیتے جاگتے لمحے
تمہارے نام کرنے ہیں
خوشی کے سب رنگیں موسم
تمہارے نام کرنے ہیں
خوشی کی حد نہ ہو گی
کہ جس دن گر تم بھی
زرا اک بار جو کہ دو
تمہارے ساتھ چلنا ہے
(از قلم محمد نور الزمان طیب)
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






