عشق نے مینوں دسے گُن عبادت والے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaگنگڑوں پا کے نچنا مینوں عشق سکھایا
ٹھیاں ٹھیاں کر کے نچ کے یار منایا
عشق نے مینوں دسے گُن عبادت والے
عشق دے پیچھے پیچھے یار ورد پکایا
عشق نے دسیا اممبراں اُتے تارے کِنے
عشق نے کھول کے مینوں عشق دا بھید سُنایا
عشق نے دسیا مینوں فیر نیازاں بارے
عشق دے کہن دے اُتے میں سب کجھ ونڈ آیا
عشق نے مینوں کھان لیئی بڑے دُکھرے دِتے
عشق نے ہنجواں والا پانی مینوں پلایا
عشق دے لڑ جد لگیاں تے کجھ سمجھ نہ آئی
کیہ کجھ مینوں لبھیاں تے کیہ کجھ میں گنوایا
اِک دن عشق میری اُنگلی پڑ کے لیں گیا
وچ ویرانے دے وچ کنڈیاں اُتے چلایا
ہمت نہ ہاری میری ہر کم پورا کیتا
عشق نے میرے نُوں جتے جتے آزمایا
عشق نے دوے کن میرے زخمی کر دتے
لیراں پوا کے ہٹھ دے وچ قاسہ پڑایا
ہسدا ہسدا عشق وی اچانک رو پہیاں
میریاں ہوکھیاں دے وچ ناں جدوں ترا آیا
مَنی نہ میں ہار کسے مصیبت ولوں
عشق نے ہار فیر مَنی مینوں گل نال لایا
نہال گلاں دے اَتے مُکدی یاں ہن گل
ساریاں کومل سدھراں رول کے یار نُوں پایا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






