Yeh Mohabbat Hai
Poet: Riz By: Rizwan Ahmed, LahoreAzal Say Mohabat Mawara Alfazon Ki Mala Hy
Magar Yeh Haqeqat Hy
Mohbt Soch K Akash Pr Badal Ki Surat Main
Sada Parwaz Karti Hy
Kabhi Barish Ki Bundon Main Simat Kr Dil Ki Dharti Pr
Utarti Hy’ Bikharti Hy
Ada Lay Kar Saba Ki Yeh, Ghulabon Say Mehak Lay Kr
Dhanak Rang Ly Kar Or Sitaron Say Chamak Ly Kr
Haseen Anchal Banati Hy
Usi Anchal Say Phir Khuwabon K Kachay Ghar Banati Hy
Mohabat Azmati Hy
Kabhi Shair Ban Kar Lafz Ki Hurmat Barhati Hy
Kabhi Saaz Ban Kr Dhiray Dhiray Gungunati Hy
Sara-Pa Ankh Ban Jati Hy Yeh Mehbob Ko Pa Kar
Anokha Lams Ban Jati Hy Yeh Koe-E-Yaar Ja Kr
Na Jane Kon Sa Mantar Yeh Parh K Hole Hole Say
Kisi Ki Band Palkon Main Bina Dastak Diye Yak-Dam
Utar K Ghar Banati Hy
Mohabat Muskurati Hy
Yeh Khusboo Hy Humesha Phool Ki Sanson Main Hoti Hy
Bana Day Chand, Yeh Tera Shab Ko Jo Yeh Aisa Moti Hy
Kasaak Hy Daaimi Is Main, Buhat Bay Naam Lazaat Hy
Mohabat Ki Yehi Tareef Hy K
Yeh Mohabbat Hai
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






