پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں حیدرآباد اور سیالکوٹ کی ٹیموں کے شامل ہونے کے بعد لیگ کی رینج مزید بڑھ گئی ہے۔ پی ایس ایل فیملی میں شامل ہونے والی ساتویں ٹیم کا نام حیدرآباد رکھا گیا ہے، جسے ایف کے ایس نے 175 کروڑ روپے میں خرید لیا۔
جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں بولی کا آغاز ایک سو دس کروڑ روپے سے ہوا۔ بولی میں 9 کمپنیوں نے حصہ لیا اور جیسے جیسے مقابلہ بڑھتا گیا، دام بھی بڑھتے گئے۔ آخرکار قرعہ ایف کے ایس کے نام نکلا، جس کے بعد پی ایس ایل میں کراچی، ملتان، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور اور حیدرآباد شامل ہوگئے۔
اسی تقریب میں پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم بھی فروخت ہوئی، جسے او زی ڈیولپرز نے 185 کروڑ روپے میں خریدا اور اسے سیالکوٹ کا نام دیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا کہ پی ایس ایل اب صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ملک کی کرکٹ میں ایک بڑی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ 10 سال تک پی سی بی مکمل تعاون فراہم کرے گا اور لیگ کی ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔
پی ایس ایل میں ان دو نئی ٹیموں کے شامل ہونے سے لیگ کے مقابلے مزید سخت اور دلچسپ ہونے کی توقع ہے، جبکہ کرکٹ کے شائقین کے لیے نئے شہر کی نمائندگی کا موقع بھی میسر آئے گا۔