کابینہ کمیٹی کا سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ، شفافیت اور اصلاحات کے عزم کا اعادہ

image

کابینہ کمیٹی برائے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (CCoSOEs) کا اجلاس وزارتِ خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سرکاری اداروں (SOEs) کی مالی و انتظامی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (CMU) کی جانب سے مالی سال 2024-25 کے لیے کمرشل اور نان کمرشل سرکاری اداروں کی سالانہ جامع کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں سرکاری اداروں کی مالی و غیر مالی کارکردگی، حکومتی معاونت، قومی خزانے میں شراکت، قرضوں کی صورتحال، کارپوریٹ گورننس، آڈٹ اسٹیٹس، بزنس پلانز اور اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2023 کے تحت آئندہ کے لائحہ عمل کا احاطہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران سرکاری اداروں کی مجموعی آمدن تقریباً 12.4 کھرب روپے رہی، تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث آئل سیکٹر کی کمزور کارکردگی نے منافع پر منفی اثر ڈالا۔ منافع بخش اداروں کا مجموعی منافع 13 فیصد کمی کے ساتھ 709.9 ارب روپے رہا، جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات میں 2 فیصد کمی ہو کر 832.8 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر سرکاری اداروں کو 122.9 ارب روپے کا خالص نقصان ہوا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ نقصانات زیادہ تر چند اداروں تک محدود ہیں، خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور بجلی کی تقسیم کے شعبوں میں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور متعدد پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں مسلسل خسارے کا باعث بن رہی ہیں، جس کی وجوہات میں ساختی مسائل، زیادہ اخراجات، مالیاتی بوجھ اور عوامی خدمت کی نوعیت شامل ہے۔ سرکاری اداروں کو مالی پائیداری کی بنیاد پر گرین، ایمبر اور ریڈ کیٹیگریز میں تقسیم کرنے پر بھی بریفنگ دی گئی۔

حکومتی معاونت کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 میں سرکاری اداروں کو دی جانے والی مجموعی معاونت بڑھ کر 2,078 ارب روپے ہو گئی، جبکہ اداروں کی جانب سے حکومت کو موصول ہونے والی رقوم 2,119 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جن میں ٹیکس، منافع اور سود شامل ہے۔

اجلاس میں سرکاری اداروں کے قرضوں کی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ مجموعی قرضہ 9.57 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ غیر فنڈڈ پنشن واجبات تقریباً 2 کھرب روپے بتائے گئے، جنہیں ایک بڑا مالی خطرہ قرار دیا گیا۔ آف بیلنس شیٹ ضمانتیں اور دیگر ذمہ داریاں 2.16 کھرب روپے رپورٹ کی گئیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ شفافیت، آئی ایف آر ایس کے مطابق رپورٹنگ اور ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے قیام سے پالیسی سازی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں میں اصلاحات، احتساب اور مالی پائیداری کے لیے پرعزم ہے۔

کابینہ کمیٹی نے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2023 کے تحت آڈٹس کی بروقت تکمیل، فروری 2026 تک آئی ایف آر ایس رپورٹنگ، حقیقت پسندانہ بزنس پلانز اور خسارے میں چلنے والے اداروں کے لیے سخت مالی نظم و ضبط پر زور دیا۔ کمیٹی نے رپورٹ کی اشاعت کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو اصلاحاتی اقدامات کے لیے رپورٹ شیئر کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، جامشورو پاور جنریشن کمپنی، انرجی انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی، انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور قبائلی علاقوں کی الیکٹرک سپلائی کمپنی میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزرا، سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US