کچھ نہیں رہا ہے اب بھری جوانی میں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکچھ نہیں رہا ہے اب اس بھری جوانی میں
اور بھی بہت ہیں کردار اس کہانی میں
تیرنا نہیں آیا پھنس گیا بھنور میں جو
ڈوب وہ گیا ہے دریا کے گہرے پانی میں
منسلک محبت کو کر دیا تجارت سے
ڈھونڈتا رہا ہوں میں پیار یار جانی میں
لفظ ساتھ دیتے میرا نہیں لکھو کیسے
شاعری نہیں ہوتی آج کل روانی میں
سادگی میں رہتا ہوں کم نہیں کسی سے میں
ذات میری مت پوچھو تم ہوں خاندانی میں
سب گنوا دیا اپنا نہ رہے کہیں کے ہم
بس لگے رہے گوروں کی ہی پاسبانی میں
رو نہیں رہا ایسے غم زدہ بہت ہے وہ
لگتی تو حقیقت ہے دکھ بھری کہانی میں
مل گیا نشاطِ غم ہجر کرب میں گزری
کچھ ملا نہیں یے شہراد رت سہانی میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






