مشغلے جن کے کھیل ہوتے ہیں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiمشغلے جن کے کھیل ہوتے ہیں
اس لیے ہی وہ فیل ہوتے ہیں
خوف آتا ہے اس لیے ہی وہاں
چور ڈاکو تو جھیل ہوتے ہیں
جب مصیبت میں ہو کوئی انساں
رات دن پھر طویل ہوتے ہیں
اس لیے تو غریب ہیں پیچھے
سستے داموں یہ سیل ہوتے ہیں
اس لیے جیت جاتے ہیں ان سے
میرے مرغے اصیل ہوتے ہیں
دوڑ بیلوں کی اس لیے جیتے
داجلی ان کے بیل ہو تے ہیں
پیار ملتا نصیب سے ہی ہے
اب تو مشکل سے میل ہوتے ہیں
آسمانوں پہ بنتے ہیں جوڑے
سب نصیبوں کے کھیل ہوتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






