چمن میں پھول کھلے ہیں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiچمن میں پھول کھلے ہیں بہار آنے سے
ہوا ہے اچھا یہ موسم خزاں کے جانے سے
یہ آزما ہی کبھی لینا یار عجلت میں
یہ پیار ہوتا نہیں کم یوں دور جانے سے
چلو یہ اچھا ہوا ختم ہوئی تنہائی
خوشی ہوئی ترے یار لوٹ آنے سے
رکھو نہ دل میں دبازت نہ آزماؤ ہمیں
چلا گیا تو نہ آؤں گا پھر بلانے سے
میں انتظار میں بیٹھا ہوں رات ہونے کو ہے
چلے ہی آؤ کوئی کرکے اب بہانے سے
یوں آتی لمس کی خوشبو ہے تیرے سے شہزاد
مری تو عید ہو جاتی ہے مسکرانے سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






