وہ کر رہا تھا ستم بھی وفا کے لہجے میں
Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wahوہ کر رہا تھا ستم بھی دعا کے لہجے میں
میں ظلم سہ رہا تھا بس وفا کے لہجے میں
عجیب شخص تھا، زخموں کو پھول کہتا تھا
وہ بات کرتا رہا بس شفا کے لہجے میں
میں اس کے بعد بھی اس کو برا نہ کہہ پایا
وہ دل دکھا کے گیا تھا خدا کے لہجے میں
فریب ایسا کہ برسوں خبر نہ ہو پائی
وہ زہر گھول رہا تھا دوا کے لہجے میں
جو اپنے حق میں تھی ہر بات کہہ گیا ہنس کر
مگر سوال کیا اک سزا کے لہجے میں
کہا یہ اس نے مرے دل کو توڑ کر شہزاد
دعا میں یاد رکھوں گا وفا کے لہجے میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






