دل کی بستی تیری یادیں تو اور میں
Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wahدل کی بستی، تیری یادیں، آنکھ میں پانی، تو اور میں
وقت کی اس دہلیز پہ ٹھہری ایک نشانی، تو اور میں
شام کا منظر، الجھا رستہ، ایک کہانی، تو اور میں
یاد کا جگنو، خاموش ہوا، رات سہانی، تو اور میں
دور افق پر ڈوبتا سورج، پھیلتی سرخی چار طرف
خواب کی کشتی، نیند کا دریا، موجِ روانی، تو اور میں
پھول مہکتے، چاند چمکتا، رات غزل سی لگتی تھی
دل کی دنیا، پیار کی خوشبو، عہدِ جوانی، تو اور میں
برکھا رُت میں بھیگے لمحے آج بھی دل میں زندہ ہیں
بوند کا نغمہ، مٹی کی خوشبو، یاد پرانی، تو اور میں
لوگ نئے تھے، شہر نیا تھا، لیکن دل تنہا ہی رہا
اپنی غربت، اپنی وفا کی ایک کہانی، تو اور میں
عمر کے صحرا میں شہزادؔ یہ کتنے موسم بیت گئے
باقی ہے بس ایک تصور، ایک روانی، تو اور میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






