وہ جھوٹ بول رہا تھا وفا کے لہجے میں
Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wahوہ جھوٹ بول رہا تھا دعا کے لہجے میں
میں ڈوبتا ہی گیا تھا وفا کے لہجے میں
کھلے تو بعد میں سب راز اُس کی باتوں کے
وہ ظلم ڈھانپ رہا تھا حیا کے لہجے میں
عجیب طور سے اس نے مرا یقیں لوٹا
سوال کرتا رہا تھا رضا کے لہجے میں
میں اُس کے لفظوں کی خوشبو میں کھو گیا ورنہ
چھپا ہوا تھا ارادہ جفا کے لہجے میں
جو اپنے آپ کو کہتا تھا رہبرِ منزل
بھٹک گیا وہ بھی آخر خطا کے لہجے میں
کبھی جو دل کی عدالت میں پیش ہو گا وہ
تو جرم مانے گا شاید قضا کے لہجے میں
ہم نے تو بات بھی شہزاد شچ کہی لیکن
جہاں نے اس کو سنا ناروا کے لہجے میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






