میری داستاں ہے جو بےنشاں
Poet: habib ur rehman By: habib ur rehman , chakwalمیری داستاں ہے جو بےنشاں
نہیں عشق کی ہے یہ انتہا
کہ میں زندہ ہوں اک آس پر
نہیں یہ جفاؤں کی انتہا
میرے دل میں رہ اک کمی گئی
کہ وہ پوریی ہو ہے یہ اانتہا
لب یار میں رہی نہ سکت
طوفان شور کی ہے یہ انتہا
سبب اس کے قریب اجل میں ہوں
بے وفائی کی ہے یہ انتہا
نظر آدم نے کیا ہے یہ اخذ
میرے عزر کی ہے یہ انتہا
ہوا آشنا ہوں ابھی دور سے
ہے یہ نا آشنائ کی انتہا
کہ بہانے اس کہ ہزار ہیں
میرے مرنے کی ہے یہ انتہا
شوق دیدار جو سبب معراج بنا
محبتوں کی ہوئ ہے یہ انتہا
جو تھے فاصلے سب ہی سمٹ گۓ
رکے جبرائل ہے یہ انتہا
دیا تحفہ کتنا وہ دل نشیں
نہ سمٹ سکا ہے یہ انتہا
کہ مثال زمانہ وہ بن گئی
وفاوں کی ہوئ ہے یہ انتہا
حبیب تو بھی پیدا مثال کر
جو محبت ہے کی انتہا کی کر
کہ زمانہ کرتا رہے یہ ورد
ہے یہ انتہا،ہے یہ انتہا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






