نواۓسروش
Poet: habib ur rehman By: habib ur rehman , chakwalیہ جو ہم میں تم میں فراق ہے
کسی اور کی نہیں سازشیں
کبھی روٹھنا کبھی بولنا.
یہ سبھی تمہاری ہیں خواہشیں
سب دوش تم کو ہیں میری جاں
یہ جفا نہیں، ہیں حقیقتیں
میری زندگی میں تو جب سے ہے
میری ہیں خذاں سے عداوتیں
تیرے حسن کو جو بیاں کریں
وہ کہاں ہم میں فصاحتیں
کھلے گیسو بولے ہیں حال شب
میں نہ چاہوں کچھ بھی وضاحتیں
تجھے چاہتے تو ہزار ہیں
اب کس پہ ہوتی ہیں رحمتیں
ڈوبا عشق رب میں،تو ملی حبیب
ہیں عبادتوں کی حلاوتیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






