بڑا ہی لطف دیتی ہے
Poet: Jamshed By: Jamshed, Dubaiمحبت میں ہمکلامی کا مزہ تو خوب آتا ہے
ہو جائے خودکلامی تو بڑا ہی لطف دیتی ہے
کسی کو سوچ کر تصوّر میں کیے جانا کئی باتیں
اسی دوران آتی ہونٹو ں پے مسکراہٹ بڑا ہی لطف دیتی ہے
کھویے رہنا خیالوں میں، کسی کے پوچھے سوالوں میں
اسکی سوچتی آنکھیں اور کچھ کھوجتی آنکھیں بڑا ہی لطف دیتی ہے
جدائی کی اداسی میں روے جانا کئی پہروں تک
پھر اچانک فون پے آنا اسکی کال بڑا ہی لطف دیتی ہے
وہ جگنا پوری راتوں کا، صبح پھر دیر تک سونا
شکن آلود بستر پے اسکی خمار آنکھیں بڑا ہی لطف دیتی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






