تو اور میں

Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wah

دل کی دھڑکن، تیری خوشبو، میری جوانی، تو اور میں
عشق کا دریا، خواب کا ساحل، رات سہانی، تو اور میں

برگِ خزاں تھا، تیز ہوا تھی، ریت اُڑانی، تو اور میں
پھر بھی دل نے خواب سجائے، ضد تھی پرانی، تو اور میں

ابرِ کرم تھا، چاند کھلا تھا، رات سہانی، تو اور میں
خواب کی وادی، پیار کی خوشبو، عہدِ جوانی، تو اور میں

دھند کے پردے، بھیگی آنکھیں، یاد پرانی، تو اور میں
دل کی چوکھٹ توخاموش ہے رات سہانی، تو اور میں

چاند کی کرنیں، نیند کے رستے، خواب سنہرے جاگ اٹھے
ایک تبسم، ایک محبت، عمرِ روانی، تو اور میں

دشتِ محبت، دور کنارا، پیاس مسلسل بڑھتی رہی
ایک سمندر، ایک مسافر، موجِ روانی، تو اور میں

عمر کے میلے میں سب نے اپنے اپنے رستے چن لیے
راہِ وفا پر رہ گئے آخر ایک دوانی، تو اور میں

دل کے نہاں خانوں میں اب تک گونج رہی ہے ایک صدا
پہلا وعدہ، پہلی چاہت، پہلی نشانی، تو اور میں

چاند اُفق پر رفتہ رفتہ نور بکھیر گیا شہزاد
جھیل کا پانی، اس میں لرزتی ایک کہانی، تو اور میں

Rate it:
Views: 1
27 Jun, 2026