اک بار مجھے آخری دیدار کرا دے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiاک بار مجھے آخری دیدار کر ا دے
میں موت کی آغوش میں ہوں یار بچالے
میں مر گیا تو یادیں بھلا دینا سبھی وہ
میں نے جو لکھے خون سے تھے خط وہ جلالے
رونا نہیں تربت پہ مری یار کبھی تم
تکلیف بہت ہوگی یہی عہد نبھالے
زندہ ہوں ابھی یار مرا تو میں نہیں ہوں
پھر کون سنے گا تو ابھی حال سنالے
مت کپڑے پہننا یہ ۔ نئے کپڑے لے لینا
اچھے نہ لگیں گے یہ تجھے کپڑے تو کالے
مت ہونا پریشان ترے ساتھ رہوگا
خوش رہنا تجھے کرتا خدا کے ہوں حوالے
شہزاد غمِ ہجر سبھی بھول ہی جانا
میں جانتا ہوں تم ہو بہت یار جیالے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






