دیکھے ہیں حکومت کے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiدیکھے ہیں حکومت کے تو دستور نرالے
ہر چیز ہے مہنگی مریں گے لوگ بچارے
سبزی یہ ٹماٹر نہیں دال بھی سستی
مہنگائی میں لوگوں نے کشکول اٹھالے
مخلص نہیں اب دوست رہے حال برا ہے
اب ملتے نہیں ہیں کہیں چائے کے پیالے
احساس دلایا ہے یقیں ہو گیا پختہ
ممکن ہو مرے ساتھ چلے وقت گزارے
کوئی نہیں ہے حال غریبوں کا بچالو
غربت ہے بہت بھوک سے مرجائیں گے سارے
مزدور کماتے ہیں جو پورا نہیں ہوتا
اب ہوتے نہیں گھر میں غریبوں کے اجالے
غربت نے یہ شہزاد مرا حال کیا ہے
جب کی ہے مسافت تو پڑے پاؤِں میں چھالے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






