نکالو صدقہ دو خیرات
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiنکالو صدقہ دو خیرات وقت نازک ہے
گزارو مت کہیں پر رات وقت نازک ہے
نہیں رہے گی کروفر بھول جاؤ نہج
ملاؤ مت کسی سے ہاتھ وقت نازک ہے
خلوص پیار محبت نہیں سمجھتے لوگ
نہ پیش اب کرو خدمات وقت نازک ہے
سنبھال کر ذرا اپنے رکھو قدم صاحب
بہت ہیں اب برے حالات وقت نازک ہے
بہت ہے دھند نہیں آ سکوں گا سردمی میں
نہیں ہے ملنا جمعرات وقت نازک ہے
رقیب اپنے بہت بن گئے ہیں مت آنا
نہیں ہے کرنی ملاقات وقت نازک ہے
نہیں ہیں لوگ زیادہ پہنچ ہی جائے گا
غریب کی ہے یہ بارات وقت نازک ہے
چلے ہی جاؤ لنڈے مال آیا ہے نیا اب
ہے دھند کی تو شروعات وقت نازک ہے
کہا ہے یار نے شہزاد آؤ ملنے تم
خوشی کے آئے ہیں لمحات وقت نازک ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






