اس رات کی پھر ایک سحر ڈھونڈ رہے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaاس رات کی پھر ایک سحر ڈھونڈ رہے ہیں
ہم خود کو گنوا کر بھی اگر ڈھونڈ رہے ہیں
ہم اپنے ستاروں کے مقدر کو بدلنے
پھر چاند کی دنیا میں نگر ڈھونڈ رہے ہیں
اس عمر میں ہم کو بھی ہے چھاؤں کی ضرورت
دنیا میں محبت کا شجر ڈھونڈ رہے ہیں
اس شام کی دنیا کے اندھیروں سے نکل کر
ہم رات کے راہی ہیں سحر ڈھونڈ رہے ہیں
ہے کوئی ادا کر دے ہمیں پیار کی دولت
دھرتی پہ وفاؤں کا نگر ڈھونڈ رہے ہیں
جو اپنی نگاہوں سے ہمیں جام پلا دے
میخانے میں ایسی وہ نظر ڈھونڈ رہےہیں
پھر کوئی صدا اپنے تعاقب میں ہے وشمہ
جب اپنی وفاؤں کا اثر ڈھونڈ رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






