زندہ ہیں مگر زیست کا گھر ڈھونڈ رہے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaزندہ ہیں مگر زیست کا گھر ڈھونڈ رہے ہیں
تاروں میں جو رہتا ہے قمر ڈھونڈ رہے ہیں
لے آئی ترے در پہ ہمیں بھوک ہماری
اب دیکھے جو ہم کو بھی نظر ڈھونڈ رہے ہیں
کچھ لوگ یہاں پیار کے جنگل سے گزر کر
خود شہرِ خرافات میں شر ڈھونڈ رہے ہیں
ہو جائے مکمل یہ کسی طور غزل بھی
شعروں کی کتابوں میں گہر ڈھونڈ رہے ہیں
جس سمت سے آئے تھے اُسی سمت کو چل کر
اس زیست کے کھیتوں میں ثمر ڈھونڈ رہے ہیں
اس بزم میں ہم آئے تھے کچھ سیکھنے لیکن
وہ شعروں میں بس زِیر و زَبر ڈھونڈ رہے ہیں
ہم اپنے ہی ادوار میں گم رہتے ہیں وشمہ
اک پیار مگر شام و سحر ڈھونڈ رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






