مَظلُوم پہ جو ظُلم رَوا ہونے لگا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمَظلُوم پہ جو ظُلم رَوا ہونے لگا ہے
ہر شخص ہی لگتا ہے خُدا ہونے لگا ہے
اِنسان ہی اِنسان کی ہے جان کا دُشمن
مولٰی تِری دُنیا میں یہ کیا ہونے لگا ہے
مُمکِن ہے بَرَس جاۓ یہ اسمان بھی گُونگا
مَظلُوم جو پھانسی کی سزا ہونے لگا ہے
آثار قیامت کے نَظَر آنے لگے ہیں
اِنسان جو اِنساں کا خُدا ہونے لگا ہے
پِهر آج ضرورت ہے حُسین اِبنِ علیؓ کی
اِنسان پہ پِهر ظُلم بڑا ہونے لگا ہے
مولٰی مُجھے ہمت دے کہیں ٹُوٹ نہ جاؤں
لگتا ہے وہ اب مُجھ سے جُدا ہونے لگا ہے
سِینے سے مِرے تُو اے غَمِ یار نکل جا
دِل قیدِ محبت سے رِہا ہونے لگا ہے
حیران ہوں باقرؔ تُو جو تھا ضَبط کا پیکر
محبُوب کا کیوں تُجھ سے گِلہ ہونے لگا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






