میرا ہر شعر مرا قطرہ ء خوں ہے یوں ہے
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonدست فرہاد ہے تیشہ ہے ستوں ہے یوں ہے
سر چڑھا عشق کا درپردہ فسوں ہے یوں ہے
مجھ کو تفصیل بتانے کی ضرورت ہی نہیں
مان جو لی ہے تری بات کہ یوں ہے یوں ہے
کس طرح کہدوں تقابل ہے چمن کا تجھ سے
تیری خوشبو توکہیں ان سے فزوں ہے یوں ہے
میں خرد کے بھی شکنجے سے نکل آیا ہوں
میری منزل کہیں بالائے جَنوں ہے یوں ہے
عشق کے شاہ کی آمد کا فسوں ہے شاید
حسن کی دیوی کا سر پھر سے نگوں ہے یوں ہے
یہ کسی ناگہاں طوفاں کی خبر ہے شاید
یہ جو دریا میں قیامت کا سکوں ہے یوں ہے
روح سے جسم کا ادغام نہیں ہے ممکن
وصل کی شب بھی اگر ہاں ہے نہ ہوں ہے یوں ہے
صرف تخلیق نہیں جان و جگر ہے جاناں
میرا ہر شعر مرا قطرہ ء خوں ہے یوں ہے
اصل اک ذات تھی اللہ کو دکھانی یارو
یہ ہی تو معاملہ ء کن فیکوں ہے یوں ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






