میں گُوندھتا تھا مودت بھری تراب ِ سخن
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonنہ وہ عروج تخیل نہ آب و تاب سخن
ملے گا تشنہ لبوں کو کہاں سے “آبٌ سخن”
چڑھے جو اس کا نشہ ختم ہو نہیں پاتا
ظروف ِ حرف میں بھرتا جو ہوں “شراب سخن “
جو درد ِ خامشی حد سے پڑھا تو کیا کرتا
میں بے زبان بھی کر بیٹھا ارتکاب سخن
ضریح ِچاہت و الفت بنا ہی لی آخر
میں گُوندھتا تھا مودت بھری تراب ِ سخن
میں ڈگمگا سا گیا ، فکر کے مصلے پر
کہ سوچتا تھا کمالوں گا کچھ ثوابِ سخن
حضور آپ کا مجھ سے مقابلہ ہی نہیں
میں ایک ذرہ ہوں اور آپ آفتاب ِ سخن
خیال چونچ میں لے آئے طائر الہام
مجھے عطا ہوئی رب سے جو یہ کتابِ سخن
وہ کم سخن تو مری نیند تک پہ غالب ہے
دِکھا رہا ہے حسیں پھر سے ایک خواب ِسخن
یہ کس نے چھیڑ دی تاریں ، حسیں خیالوں کی
بجا رہا ہوں کھڑا کب سے میں رباب سخن
زمین ِ حرف میں مفتی جو بویا تُخم خیال
کھِلا ادب کے چمن میں نیا گلاب ِسخن
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






