کیا کریں جاناں کہ اب تم سے محبت ہے تو ہے
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonکیا کریں جاناں کہ اب تم سے محبت ہے تو ہے
آپ کی آنکھ میں یہ ایک حماقت ہے تو ہے
نوک پرجوتے کی ، ہاتھوں کی لکیریں ساری
آپ کے ہاتھ میں مرنا مری قسمت ہے تو ہے
ہم نے ہر دور میں انسان کا حق مانگا ہے
حاکمے وقت کی نظروں میں بغاوت ہے تو ہے
ہے یہ بےپایاں کرم رب کی نوازش کا سبب
میرے آقا سے مرے خون کی نسبت ہے تو ہے
کلمہ ء حق ہے مرے خون میں، خو میں شامل
اب اگر میرے مقدر میں شہادت ہے تو ہے
یاوہ کوئی نہیں تنقیص نہ تحریص کوئی
پھر بھی تقدیر میں گر عزت و شہرت ہے تو ہے
اس کو تقدیر و مشیت کے حوالے کردو
گونا آنکھوں میں کوئی آپکے حسرت ہے تو ہے
گھر جو دشمن بھی چلا آئے تو عزت دیں گے
میرے اجداد کی یہ اعلی روایت ہے تو ہے
دین مفتی ہے فقط مہرو وفا کی باتیں
یہ گلے شکوے اگر آپکی فطرت ہے تو ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






