شوخ کے بچپنے کا کیا کہئے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillصبح کو سوچنے کا کیا کہئے
رات بھر جاگنے کا کیا کہئے
توڑتا ہے کھلونا جان کے دل
شوخ کے بچپنے کا کیا کہئے
حسن کی ساری اداؤں کا گواہ
اک سفر آئینے کا کیا کہئے
ڈوبنا بحر میں بھی خوب مگر
عشق میں ڈوبنے کا کیا کہئے
کھلتی ہی جا رہی ہیں تعبیریں
خواب سے الجھنے کا کیا کہئے
چاند بھی دیکھ لیا ہے لیکن
آپکو دیکھنے کا کیا کہئے
گرتے گرتے ہوئے سنبھلتے ہوئے
ہاتھ اک تھامنے کا کیا کہئے
روٹھ جاتی ہے جیسے سب خدائی
پیار کے روٹھنے کا کیا کہئے
کتنے آتش فشاں خوابیدہ ہیں
شعر کے حوصلے کا کیا کہئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






