نظروں سے نظر ملایا کرو
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaنظروں سے نظر ملایا کرو
یُوں نہ مجھے ستایا کرو
میں عاشق ہوں ترا غیر نہیں
مجھ نہ شرمایا کرو
میں پی جائوں گا پل بھر میں
تم زہر لبوں سے پلایا کرو
میں چھیڑوں تری زلفوں کو
جی بھر کے تجھکو پیار کروں
تم بھول کے فکردنیا کی
مرے ساتھ رات بیتایا کرو
میں شاعر ہوں مرے پاس بیٹھو
کچھ سُنو اور کچھ سُنایا کرو
دِکھا کے جھلک پہلے حُسن کی
پھر چُھپنا ترا ٹھیک نہیں
دیکھو دیکھو جاناں
دیکھو دیکھو جاناں
کچھ ترس مجھ پے کھایا کرو
تم رات کو جو سنور جاتی ہو
چاند کو نہ پاگل بنایا کرو
میں بیمار ہوں تری دید کا
نہال کو جھلک دِکھایا کرو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






