زرا کچھ دیر موسموں سے چرانا نہ مجھے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillپھر خلش کی اسی بھٹی میں جلانا نہ مجھے
میں اگر لوٹ بھی آیا تو بلانا نہ مجھے
اے روح شوق منازل کو چھپا کر رکھنا
واپسی کا ابھی رستہ بھی بتانا نہ مجھے
میں آ رہا ہوں تیرے پاس مگر وعدہ کر
آئینہ اب کے سرابوں کا دکھانا نہ مجھے
میں کسی یاد کے لمحے کا وجد ڈھونڈتا ہوں
ذرا کچھ دیر موسموں سے چرانا نہ مجھے
میں تم سے دور بھی جی لیتا تھا گھڑی دو گھڑی
یہ گئے وقت کی باتیں ہیں سنانا نہ مجھے
میری انا کو گورارا سہی تیری چوکھٹ
اب کسی اور کے قدموں میں گرانا نہ مجھے
میں ابھی ذات کی سچائیاں تو کہہ ڈالوں
ہاتھ سے اپنے ابھی زہر پلانا نہ مجھے
ٹوٹتے ہیں تو سنبھالے نہیں جاتے جاناں
اسقدر بھی حسین خواب دکھانا نہ مجھے
میں کسی روز وقت اوڑھ کے سو جاؤں گا
تم بہت شوخ ہو نٹ کھٹ ہو ستانا نہ مجھے
میں نے جو بات بتانی تھی بتا ڈالی ہے
اب کبھی ہجر کی دنیا میں پھرانا نہ مجھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






