بکھرتی زلف کی خوشبو میں کتنے راز چھپے ہوں گے
Poet: عطاء الرحمٰن رحمانی By: عطاء الرحمٰن رحمانی, GILGITبکھرتی زلف کی خوشبو میں کتنے راز چھپے ہوں گے
تری پلکوں کی چھاؤں میں کئی جذبے جلے ہوں گے
نظر کا جادو ایسا ہے کہ منظر پل میں بدل جائے
تری ایک چشمِ شیریں سے کئی عالم دھلے ہوں گے
تِرے لب بولتے کم ہیں، مگر سب کچھ سنا دیتے
خموشی میں بھی الفاظوں کے رنگ و نغمے بہے ہوں گے
ترا چہرہ ہے آئینہ کسی خوابوں کی بستی کا
نظر جس پر ٹھہر جائے، وہاں لمحے رکے ہوں گے
ترا انداز چلنے کا، صبا کو بھی سکھاتا ہے
کہ کیسے گام زن ہو کر کوئی دل میں اتر جائے
سحر کی چاندنی جیسا ہے تیرا نرم لہجہ بھی
جو سن لے تیرے ہونٹوں کو، وہی پل میں سنور جائے
رحمانی! اب بھی پلکوں پر اُسی لمحے کو رکھتا ہے
جو اُس کی مسکراہٹ سے، غزل کا مصرعہ بنتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






