یوں بھی نبھا رہی ہوں میں اس زندگی کے ساتھ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Manilaیوں بھی نبھا رہی ہوں میں اس زندگی کے ساتھ
جیسے کہ اجنبی ہو کوئی اجنبی کے ساتھ
ہوں پیار سے بھرے یہ محبت کے رات دن
اے دوست جی سکو تو جیو عاشقی کے ساتھ
جل جائے گا تو آگ میں پروانے دیکھنا
اچھا نہیں ہے کھیل ترا روشنی کے ساتھ
آنکھوں میں اشک آتے ہیں اب تو سوال دے
شاہد شریک غم بھی ہے میری خوشی کے ساتھ
کٹتی ہے زندگی بھی مری بے کسی کے ساتھ
دل کو لگا لیا ہے جو اک اجنبی کے ساتھ
کھلتا کسی پہ کیو ں نہ مرے دل کا معاملہ
پچھتاتی یوں ہی جو میں بھی بے بسی کے ساتھ
وشمہ تم اپنے عشق کا رکھنا ذرا بھرم
پی جا نا آنسوؤں کو تم اپنی ہنسی کے ساتھ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






