ہر بار ہوا ہے جو وہی تو نہیں ہوگا
Poet: آلوک شریواستو By: مصدق رفیق, Karachiہر بار ہوا ہے جو وہی تو نہیں ہوگا
ڈر جس کا ستاتا ہے ابھی تو نہیں ہوگا
دنیا کو چلو پرکھیں نئے دوست بنائیں
ہر شخص زمانے میں وہی تو نہیں ہوگا
وہ شخص بڑا ہے تو غلط ہو نہیں سکتا
دنیا کو بھروسہ یہ ابھی تو نہیں ہوگا
ہے اس کا اشارہ بھی سمجھنے کی ضرورت
ہوگا تو کبھی ہوگا ابھی تو نہیں ہوگا
دو چار گڑے مردے اکھاڑیں گے کسی روز
ہر بار نیا جھگڑا کبھی تو نہیں ہوگا
کچھ اور بھی ہو سکتا ہے تقریر کا مطلب
جو آپ نے سمجھا ہے وہی تو نہیں ہوگا
ہر بار زمانے کا ستم ہوگا مجھی پر
ہاں میں ہی بدل جاؤں کبھی تو نہیں ہوگا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






