بتا تو اے چمن لایا کہاں سے
Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachiبتا تو اے چمن لایا کہاں سے
تری خوشبو تو ملتی ہے فلاں سے
وہ اک صورت جو کل شب خواب میں تھی
یقیناً ہوگی پریوں کے جہاں سے
وہ کہتا ہے کہ تج دے من کی خواہش
ملن کیسا زمیں کا آسماں سے
مرے چھ فٹ کا قد بھی ہار بیٹھا
فقط دو انچ کی لمبی زباں سے
وہیں اٹکی ہوئی ہے سانس میری
کسی سے ربط ٹوٹا تھا جہاں سے
وہ میری زندگی سے یوں ہی نکلی
نکلتا تیر ہے جیسے کماں سے
یقیں کو راہ مل سکتی ہے صاحب
نکل جائے اگر شک درمیاں سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






