بے حجابانہ وہ کل جب بر سر محفل گئے
Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachiبے حجابانہ وہ کل جب بر سر محفل گئے
جتنے مرجھائے تھے چہرے ایک دم سے کھل گئے
یار وہ نازک ہے اتنا میں نے اس کے آنے پر
فرش پھولوں کا بچھایا پاؤں پھر بھی چھل گئے
جانے اس آواز میں کیسی شفا موجود ہے
اس نے پوچھا ٹھیک ہو اور زخم خود ہی سل گئے
وہ جو اپنی بے تکی باتوں سے ہی مشہور ہے
اس کی باتیں سننے کو سب شہر کے عاقل گئے
صرف اس کے حسن کی خیرات لینے کے لئے
بن کے شاہان زمانہ بھی وہاں سائل گئے
بیٹھے بیٹھے اس نے ندی میں ڈبوئے پاؤں اور
دیکھتے ہی دیکھتے دونوں کنارے مل گئے
اپنی منزل پانے والوں میں وہی کچھ لوگ ہیں
روند کر اپنی انا جو جانب منزل گئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






