عمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کر
Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachiعمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کر
کیوں نہ لکھوں خود کو مجنوں میں سخنور کاٹ کر
جانے یہ کیسی شرارت آج سوجھی ہے اسے
وہ مجھے اڑنے کو کہتی ہے مرے پر کاٹ کر
جب بھی میں ہمت جٹا کر کرتا ہوں اظہار عشق
بولنے لگتی ہے پگلی بات اکثر کاٹ کر
کتنی آسانی سے کرتے ہیں وہ پوری خواہشیں
مائی پتھر دل پہ رکھ کر بابا پتھر کاٹ کر
آج پھر پیچھے پڑا ہے قافلہ فرعون کا
اے مرے رہبر بنا رستہ سمندر کاٹ کر
اے عطاؔ ظاہر تو کر بے چینیوں کے راز کچھ
لکھ رہا ہے نام کس کا تو برابر کاٹ کر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






