اپنے سر کو جھکائیں نیا سال ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiاپنے سر کو جھکائیں نیا سال ہے
رب سےمانگوں دعائیں نیا سال ہے
سب پرانے غم بھلائیں نیا سال ہے
آؤ خوشیاں منائیں نیا سال ہے
مت عداوت رکھو پیار دل میں رکھو
دشمنی اب مکائیں نیا سال ہے
دوست احباب ناراض کیوں ہوگئے
وعدے قسمیں نبھائیں نیا سال ہے
ماں کی خدمت کرو ہوگا راضی خدا
ماں کی پائیں دعائیں نیا سال ہے
آؤ ہم نیکی کے راستے پر چلیں
ٹھیک رستہ دکھائیں نیا سال ہے
اب دسمبر نہیں وہ گزر ہی گیا
جنوری اب منائیں نیا سال ہے
ختم مہنگائی ہو جائے گی دوستو
مت حکومت گرائیں نیا سال ہے
یاد شہزاد کرتے ہیں اکثر تمہیں
اپنے گھر لوٹ جائیں نیا سال ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






