وہ دیکھ کر ہم کو پسِ دیوار ہوئے ہیں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiوہ دیکھ کے ہم کو پسِ دیوار ہوئے ہیں
جب ہوئی ملاقات وہ بیمار ہوئے ہیں
لگتا نہیں دل اب تو بنا ان کے ہمارا
ہم روگ محبت میں ہی گرفتار ہوئے ہیں
برداشت صدمے نہیں کر پائے مگر اب
پہلے سے بہت اچھے ہیں دیدار ہوئے ہیں
اپنوں کی عنایت سے ملا کچھ بھی نہیں ہے
رسوائی بہت ہوئی ہے غم خوار ہوئے ہیں
مالوف نے بلایا ہے چلے جلدی سے آؤ
بدلے ہیں ابھی کپڑے تو تیار ہوئے ہیں
ناکام محبت نے دیا روگ ہے ایسا
ہم آج غمِ ہجر سے دوچار ہوئے ہیں
واپس نہیں گھر آئیں گے پختہ ہے ارادہ
ہم رخت سفر باندھ کے تیار ہوئے ہیں
اپنے بھی مصائب میں نہیں کام جو آئے
شہزاد جدھر بھی گئے انکار ہوئے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






