الفتوں کو بڑھائیں نیا سال ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiالفتوں کو بڑھائیں نیا سال ہے
یار روٹھے منائیں نیا سال ہے
گزری کیسی سنائیں نیال ہے
حال اپنا بتائیں نیا سال ہے
چھوڑ دو کام اپنے برے دوستو
اپنا دامن بچائیں نیا سال ہے
فرط جذبات یوں ہوتےاچھے نہیں
اب نہ انکھیں ملائیں نیا سال ہے
دن گزر جائیں ہنستے ہنستاتے ہی یوں
اپنے گھر کو سجائیں نیا سال ہے
کال کرکے کہا بیٹے کو باپ نے
اب تو گھر اپنے آئیں نیا سال ہے
میں بدل ہی گیا ہوں نہیں وہ رہا
شور مت اب مچائیں نیا سال ہے
خرخشے ہوتے اچھے نہیں دوستو
وقت اپنا بچائیں نیا سال ہے
وعدہ پورا کرو اپنا شہزاد وہ
میرا وہ تحفہ لائیں نیا سال ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






