وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، جبر کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا ہے، عالمی امن اور اعتماد کی بحالی کے لیے مشرق وسطیٰ، کشمیر اور فلسطین سمیت تنازعات کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا ایک خطرناک دور سے گزر رہی ہے جنگ اور امن دونوں انتخاب ہیں بعض اوقات بڑی بہادری جنگ شروع کرنے کے بجائے اسے روکنے میں ہوتی ہے۔ قرآن پاک کا پیغامِ امن پاکستان کے لیے مشعل راہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میزائلوں، ڈرونز اور بندوقوں کی گھن گرج کے درمیان سفارت کاری کی آواز مزید بلند ہونی چاہیے۔ پاکستان نے تنازعات کے پُرامن حل کے لیے عملی اقدامات کیے، اسلام آباد مذاکرات پاکستان کی عملی امن کاوشوں کا مظہر ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان کو بلاجواز بیرونی حملے کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور درست حکمت عملی کے ساتھ دشمن کے حملے پسپا کیے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ خطرناک صورتحال سے بچانے کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ کشمیری عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک ان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے کہا کہ بھارت کا معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ قانونی بنیاد سے محروم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے، پاکستان کے حصے کا پانی روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا رخ موڑنے کی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں اور مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے کے دفاع، استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں۔
فلسطین کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کو نسلوں سے قبضے، بے دخلی اور تشدد کا سامنا ہے۔
انہوں نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد، خودمختار، قابل عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
وزیراعظم نے لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں، افغان حکام اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں اور افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے لیے قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔
وزیراعظم نے اسلاموفوبیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآن کریم کی بے حرمتی کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں مذہبی نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشی بحالی حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے معاشی استحکام بحال کیا گیا ہے جبکہ زراعت، صنعت، معدنی وسائل، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کی مصنوعی ذہانت و آئی ٹی میں تربیت پر توجہ دی جا رہی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات بار بار برداشت کر رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی مالی وعدے پورے کریں اور متاثرہ ممالک کو نقصانات کے ازالے، تیاری اور بحالی کے لیے تعاون فراہم کریں۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے ’’یو این 80 اقدام‘‘ کی حمایت کرتے ہوئے سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری اور جوابدہ بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اعتماد صرف الفاظ سے بحال نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کا نصب العین ’’سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی استحقاق نہیں‘‘ ہے۔
وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر خلیل الرحمٰن کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی عالمی جنوب کے لیے آواز اٹھانے پر خدمات کو بھی سراہا۔