ﺑﮩﺖ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ

Poet: شفق کاظمی By: Shafaq kazmi, Karachi

ﺑﮩﺖ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺳﺮ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ
ﺑﮩﺖ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺮﺗﺎ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﻮ
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ
ﺭﮐﮭﺘﯽ
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺮﺗﯽ
ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺗﮑﻠﯿﻔﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ
ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﯿﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ
ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ
ﮨﮯ
ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺗﮑﻠﯿﻒ
ﺩﮮ ﺩﯼ
ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ
ﺳﻨﻮ ﺍﺏ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺑﮩﺖ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ

Rate it:
Views: 836
25 Oct, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL