یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی
Poet: عابد عمر By: مصدق رفیق, Karachiیہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی
یہ عمر تو ہے میاں دوستوں میں بیٹھنے کی
چھپائی جاتی نہیں زردیاں سو دور ہوں میں
وگرنہ ہوتی ہے خواہش گلوں میں بیٹھنے کی
شمار میرا بھی کرتے ہیں لوگ ان میں مگر
مری مجال کہاں شاعروں میں بیٹھنے کی
ابھی نہ انگلی اٹھا مجھ پہ تھوڑی مہلت دے
تمیز سیکھ رہا ہوں بڑوں میں بیٹھنے کی
مجھے بدل کے کوئی اور ہی بنا دیا ہے
کہ انتہا ہے یہ صورت گروں میں بیٹھنے کی
دکھا رہے ہیں تواتر سے خامیاں میری
بھگت رہا ہوں سزا آئنوں میں بیٹھنے کی
نہیں مجال کسی کی کہ منتشر کر دے
بنا چکے ہیں جو عادت صفوں میں بیٹھنے کی
خزانے لٹتے رہیں گے یہ خالی ہونے تک
اجاڑ دے گی یہ عادت گھروں میں بیٹھنے کی
خدا عطا کرے عہدہ بڑا غریب کو اور
بدل سکے نہ وہ خو نوکروں میں بیٹھنے کی
خوشامدی نہیں رکھتا ہے اپنے کام سے کام
تو کیا پڑی ہے تجھے افسروں میں بیٹھنے کی
یہ دل اسکین کرانا بہت ضروری ہے
کہ اطلاع ہے ترے دھڑکنوں میں بیٹھنے کی
حیات سوئے عدم لے کے جا رہی ہیں عمرؔ
جو عادتیں ہیں گئے موسموں میں بیٹھنے کی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






