یہ عمــــر تھی نہ ابھی ہجــــر کے زمانے تھے
Poet: علی اعجاز تمیمی By: علی, Hyderabadیہ عمــــر تھی نہ ابھی ہجــــر کے زمانے تھے
مجـھے تــو یار ابـــھی قہقہـــے لـگانے تھـــے
اسی لیـے تو چھـــپاے ہیں جا کـے مٹی میں
وہ لـــوگ لــوگ نہیـــں قیمتی خــــزانے تھے
وہــی جـــدائی وہــی دوریــوں کا ماتــــم ہے
جــــدید دور میں صدمے وہــی پـــــرانے تھے
گھـــــڑی کی ایک سـوئی ہِل نہیں رہی جیسے
بچھـــڑتے وقـت کـا لــمحہ کئی زمـــانــے تھے
جــہانِ کـــن فیـــــکوں مجھ پہ ناز کــرتا تھا
میـــرےخـــدا و پیمبر ﷺ سے دوستانے تھے
کـــنارِ آب تھی ســــورج سے دوستی جس کا
یہاں پہ عــــکس کـــہیں اور پــــر ٹھکانے تھے
یہ کـــس نے رات کــے بارہ بـــجے اٹـــھایا ہے
ابــھی تو خـــواب مجھے روشـنی کے آنے تھے
یـہی بــیان ہـے پھر امــــن تک لـــڑیں گے ہــم
مـــــراد یہ کہ ابـــھی اور بـــم چـــــلانے تھے
تمـــہی نـے کال مـــلائی نــہیں وگـــرنہ تــــو
بـــــس ایک فــــون پہ احباب مان جانے تھے
شـــکستـگی سے بـــڑی پــختگی مـلانی تھی
یہ حـــادثات کـــسی جـــیت کــــے بہانے تھے
ہـــمیں تــــو اور بھی اعـــجاز فن دکھانا تھا
بہت سے حــــرف ســرائے سخن میں آنے تھے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







