یہ رفاقت بے حد پُرانی تھی
Poet: ارسلان حسینؔ By: Arsalan Hussain, Ajmanیہ رفاقت بے حد پُرانی تھی
نو عمری کی لغزش میں جو چند خواہش پَنپتی ہیں
ہو کوئ زیست کا محرَم
جو تشنہ دل کے جذبوں کو بہت اخلاص سے سمجھے
مری عمرِ روانی کو مِلا ایک زیست کا ساتھی
جو میری ذات کے ہر پہلو کو بہ خوبی سمجھتا تھا
مرے مصروف لمحوں کا وہ بے حد مان رکھتا تھا
میری ہر زیبہ خواہش پر اُسی کی حُکمرانی تھی
یہ رفاقت بے حد پُرانی تھی
اَچانک بدگمانی وہم کے اَسلوب میں اُتری
اُسکی بے جاء محبت نفرتوں کے روپ میں اُتری
مری فِطرت اُداسی تھی مجھے تھا شوق لکھنے سے
اُسے تھا شک مری تحریر کے نظموں اور لفظوں سے
کہ کوئ دوسرا بھی ہے
جو شامل ہے رگِ جاں میں
جو میری تحریر اور نظموں کا عنوان بنتا ہے
وہ رفتا رفتا میری دَسترس سے دُور جا نکلا
مری تحریر پڑھنے سے اُسے اب حیرت نہیں ہوتی
مرے اب کچھ بھی کہنے سے اُسے کوئ فرق نہیں پڑتا
میں اُسکو کیسے سمجھاتا کہ اُسکو کیسے سمجھاؤں
میری ہر زیبہ خواہش پر اُسی کی حُکمرانی ہے
یہ رفاقت بے حد پُرانی ہے
میرا عنوان تم ہی ہو
میرا عنوان تم ہی تھی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






