یہ جو بات بات میں اُن حسین آنکھوں کی بات کرتے ہو
Poet: Maryam Gill By: Maryam Gill, Faisalabadیہ جو بات بات میں اُن حسین آنکھوں کی بات کرتے ہو
وہ اُن آنکھوںمیں ہمارا عکس رکھتے ہیں
اوریہ جن کے خواب تمہاری آنکھوں میں ہیں نہ
وہ اپنے خوابوں میں ہمیں آداب کرتے ہیں
اور جن کے سامنے آنے پر تمہاری نگاہ نہیں ہٹتی
وہ مسکراکےلمحوں ہمیں تکتے ہیں
اوروہ جن کی صورت پر تمہارا ساراشہرمرتاہے
وہ فقط اِک ہم ہی پہ مرتے ہیں
اوروہ جن کے انتظار میں تم اک مدت سےجاگ رہے ہو
وہ تو آنکھوں سےمنتظر ہمارے لگتے ہیں
اور جن کے قصیدے سناتے سناتے تم نہیں تھکتے
سنا ہے وہ ہر وقت ہماری ہی بات کرتے ہیں
اور یہ جو کہتے ہو کہ اُن کے سامنے لفظ نہیں ملتے
وہ ہم سے آنکھیں جھکا کر بات کرتے ہیں
اور جن کی محفل میں ادب سے تمہارے لب نہیں ہلتے
وہ ہم سے ملاقات کرتے ہیں
اور جن کےدیدار کو ہر لمحہ تڑپتی ہیں تمہاری نظریں
وہ ہماری اِک جھلک کوترستے ہیں
اور تمہیں مطلوب ہے جو شخص اپنی زندگی کے ہر سفر میں
وہ ہمیں اپنی زندگی کی منزل سمجھتے ہیں
اور جن پہ ختم ہوتی ہیں تمہاری ساری شامیں
وہ ہم سے ہر آغاز کرتے ہیں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






