یوم حشر
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang City (Punjab -Pakistan)بوجھ بنے ہیں دھرتی کا جو کرتے ہیں کفران
ان سے باز پرس کا مرحلہ لازم ہے ہر آن
فبای الا ربکما تکذبان
ارض و سما اقلیم ہے اس کی سن لیں جن و انسان
اس سے مفر کا زعم ہے جس کو کھلا ہے یہ میدان
تاب و تواں کا نشہ ہے جس کو ہے یہ وہم و گمان
کس کو میسر رب سے مفر کی قوت بے پایان
فبای الا ربکما تکذبان
خالق کے منکر کی خاطر تیار ہوئی ہے نار
جھونکا جائے گا وہ دھوئیں میں جو ہو گا تیرہ و تار
اس کے بعد اٹھیں گے شعلے جن میں نہ ہو گا دھواں
اس عذاب میں مشرک کو کہیں نہ ہو گی امان
کسی طرف سے بھی نصرت کا نہ ہو گا امکان
فبای الا ربکما تکذبان
حشر کے دن افلاک کا دامن ہو جائے گا چاک
دہک اٹھے گا فلک کا آنچل ہو گا قصہ پاک
رنگ فلک کا ایسے ہو گا جیسے چمڑا لال
اے کج رو انسانو اب بھی کچھ تو کر لو خیال
پہچانو رب کی قدرت کواے جن و انسان
فبای الا ربکما تکذبان
وہ خالق ہے سب لوگوں کی نیت سے آگاہ
جنوں اور انسانوں کے عمل کی اسے نہیں پرواہ
محشر کے دن خلقت کے عصیاں کا کیسا سوال
اسے تو نیک اور بد خلقت کی ہے بہت ا چھی پہچان
فبای الا ربکما تکذبان
جانتا ہے وہ خالق جن و انساں کے اطوار
اس کے علم میں ہے ان لوگوں کا قبیح کردار
خالق کے احسانات کا جو کرتے ہیں پیہم انکار
مجرم کے چہرے کی نحوست بنے گی پھر غماز
محشر کے دن عصیاں کے کھل جائیں گے سب راز
حق کا منکر حشر کے دن کڑی سزا پائے گا
پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر اس کو کھینچا جائے گا
مشرک کو ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹا جائے گا
اس دھرتی کے بوجھ کو آخر پیٹا جائے گا
اسے دکھلائی جائے گی جہنم جو ہو گی بہت قریب
یہی ہے وہ ہاویہ جس کی تم کرتے تھے تکذیب
رزق کھایا پھر بھی جھٹلایا اور کیا کفران
ہاویہ میں ہے کھولتا پانی اب اس میں کرو گزران
پے درپے چکر کھائیں گے اس میں یہ مجرم ہر آن
فبای الا ربکما تکذبان
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






