یارانہَ ء درویش اور تھر کالیج
Poet: نواب رانا ارسلان By: نواب رانا ارسلان, Ismailabad, Umerkotیارانہَ ء درویش اور تھر کالیج
سوچا کہ آج کچھ افسانہ ء درویش پہ لکھوں
چند الفاظ فراقِ یارانہَ ء درویش پہ لکھوں
ہم تو نہ بھول سکے کالیج کی ہوائیں
کیا تمہیں بھی یاد ہے وہ وقت کی ادائیں؟
تھر کالیج میں تھے کیا کیا خواب میرے
اور وہ شبِ افروز سے احباب میرے
یاد آتا ہے گزرا ہر اک لمحہ
اب دل و جان رہتے ہیں بے تاب میرے
میری سُخن آڑائی کا آغاز ہے تھر کالیج
اور یہ خاکسار کے الفاظ ہے تھر کالیج
آجکل کے گلوں کو کیا پتہ اس کی اہمیت
ہمارے لیے تو ناز ہے تھر کالیج
صدا رہے آباد ہے خاکسار کی دعائیں
کیا تمہیں بھی یاد ہے وہ وقت کی ادائیں؟
وہ نوکوٹ کی گلیاں اور وہ اسکول کے دن
اب کہ رنج کی راتیں ہیں یارو کے بن
وہ علی اختر کی باتیں اور
وہ محمد علی کی سخن آڑائی
وہ مجطبیٰ کی فلوسفی
اور الله بچایو کی جدائی
جدائی میں رہی رُسوائی
کچھ یوں ہی ہے یاروں کی کہانی
وہ لویت ، وہ جے، اور وہ ہتیش بچانی
ان کی یاد کرتی ہے میری
ہر پل ہر لمہا آنکھوں میں پانی
زرا پھر ملو یارو کہ محفل سجائیں
کیا تمہیں نہیں یاد وہ وقت کی ادائیں؟
ہم کسی کے لیے اور کوئی ہمارے لیے
خاص نہ رہا
ہم کو کالیج چھوڑنا
راس نہ رہا
کہا تھا سر اطاءالله بھٹی صاحب نے
کہ یہ سال ہے ایام کے برابر
بس یہی بات ہے مجھ کو یاد
وہ ربط و آشنائی ہے نام کے برابر
وہ سال لمہوں کی طرح گزر گئے
ہم یار یوں ہی بچھر گئے
وہ استاد ہیں میرے دل کے ایوان
وہ سر رشید ، سر تیرتھ، اور سر احسان
وہ سر موھن ، سر عابد، اور سر رضوان
کہ جن کی محنت سے کچھ بن گیا ارسلؔان
یادیں یارانہَ ء درویش اب بہت ستائیں
کیا تمہیں نہیں یاد وہ وقت کی ادائیں؟
خالق ، راجہ آرف، اور نوید
زرا بات تو سنو یارو
آؤ آج پھر سے محفل سجائیں
کیا تمہیں نہیں یاد وہ وقت کی ادائیں؟
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






