یادیں پرانی لے کر آئی نئی ہے سردی
Poet: Prof Niamat Ali Murtazai By: Prof Niamat Ali Murtazai, Kasurیادیں پرانی لے کر آئی نئی ہے سردی
اک نازلی، حسینہ بانکی ادا ہے سردی
ٹھنڈی ہوا سے دھکے زخمِ جگر پرانے
بہلے ہوئے غموں کو تڑپا گئی ہے سردی
منظر ہوئے سہانے، چاندی بھری ہوا ہے
چاندی کے گہنے شب کو سب دے گئی ہے سردی
اب دھوپ بھی ملے گی محبوب کی طرح سے
طرزِ عمل ہے نا کہ طرزِ فکر ہے سردی
لطف و کرم میں چائے ثانی نہیں ہے رکھتی
پی لو یا کہ پلاؤ ، اب چھا گئی ہے سردی
ہوں گے سبھی اکٹھے لنڈے کے نیچے جھنڈے
احساسِ آدمیت دکھلا گئی ہے سردی
منکی نٹوں سے ہو گا لطفِ دہن دوبالا
میوے طرح طرح کے لاتی بڑے ہے سردی
ہمدردی کے تقاضے کوئی ہمیں سکھائے
خود غرض اس فضا میں وحشی ہوئی ہے سردی
نزلہ ،زکام ،کھانسی سب اس کی ہیں عطائیں
رکھو خیال اپنا،گردن پکڑ ہے سردی
پنچھی، پکھیرو کتنے اس نے ہیں مار دینے
جلاد ہے پوشیدہ، گوری مگر ہے سردی
سردی کرے حکومت، دل اس کی راج دھانی
بچ جاؤ مرتضائیؔ ، ظالم بڑی ہے سردی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






