یادیں پرانی لے کر آئی نئی ہے سردی

Poet: Prof Niamat Ali Murtazai By: Prof Niamat Ali Murtazai, Kasur

یادیں پرانی لے کر آئی نئی ہے سردی
اک نازلی، حسینہ بانکی ادا ہے سردی

ٹھنڈی ہوا سے دھکے زخمِ جگر پرانے
بہلے ہوئے غموں کو تڑپا گئی ہے سردی

منظر ہوئے سہانے، چاندی بھری ہوا ہے
چاندی کے گہنے شب کو سب دے گئی ہے سردی

اب دھوپ بھی ملے گی محبوب کی طرح سے
طرزِ عمل ہے نا کہ طرزِ فکر ہے سردی

لطف و کرم میں چائے ثانی نہیں ہے رکھتی
پی لو یا کہ پلاؤ ، اب چھا گئی ہے سردی

ہوں گے سبھی اکٹھے لنڈے کے نیچے جھنڈے
احساسِ آدمیت دکھلا گئی ہے سردی

منکی نٹوں سے ہو گا لطفِ دہن دوبالا
میوے طرح طرح کے لاتی بڑے ہے سردی

ہمدردی کے تقاضے کوئی ہمیں سکھائے
خود غرض اس فضا میں وحشی ہوئی ہے سردی

نزلہ ،زکام ،کھانسی سب اس کی ہیں عطائیں
رکھو خیال اپنا،گردن پکڑ ہے سردی

پنچھی، پکھیرو کتنے اس نے ہیں مار دینے
جلاد ہے پوشیدہ، گوری مگر ہے سردی

سردی کرے حکومت، دل اس کی راج دھانی
بچ جاؤ مرتضائیؔ ، ظالم بڑی ہے سردی
 

Rate it:
Views: 1462
16 Nov, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL