یادوں کے دریچے
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanبند مدت سے تری یاد کے دریچوں کو
پھر تڑپنے کو مرے آج انھیں کھول دیا
میری برباد جوانی میں مری ہستی میں
پھر تری دفن محبت نے زہر گھول دیا
ان برستی ہوئی ساون کی گھٹاؤں کے تلے
سوچتا ہوں کہ تجھے سوچ کے کیا پاؤں گا
اک اداسی سے بھرا جام ہے یادیں تیری
اس کی تلخی میں کہیں ڈوب کے رہ جاؤں گا
پر تجھے بھولنا چاہوں بھی تو ممکن ہے کہاں
تیری یادوں کے الاؤ کو بجھا سکتا نہیں
تو نے اس دل پہ بنایا تھا جو اک بار کبھی
وہ ترا نقش مری جان مٹا سکتا نہیں
یاد ہے آج بھی وہ چاندنی راتوں کا سماں
تیرے ہونٹؤں پہ مچلتے تھے حسیں افسانے
تیرے رخسار کی سرخی وہ ترا شرمانا
تیری آنکھیں تھیں کہ چھلکے ہوئے دو پیمانے
جب کبھی پیار لیے پاس مرے تو آئی
میں یہ سمجھا کہ مجھے زیست کا مفہوم ملا
تیرے ملنے سے ملی تھی مجھے انجان خوشی
تجھ سے بچھڑا تو ملا جس سے بھی مغموم ملا
میں نے مانا تو مرے پاس نہیں ہے پھر بھی
تیری سانسوں کی مہک دور سے آتی ہے مجھے
میں ہر اک گوشے سے سنتا ہوں صدائیں تیری
تیری آواز ترا عکس دکھاتی ہے مجھے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






