ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
Poet: جون ایلیا By: Hassan, Kolkataہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر متاع نفس نذر آہنگ کی ہم کو یاراں ہوس تھی بہت رنگ کی
گل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
اول شب کا مہتاب بھی جا چکا صحن مے خانہ سے اب افق میں کہیں
آخر شب ہے خالی ہیں جام و سبو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر سانحہ یہ ہے اب آرزو بھی نہیں
وقت کی اس مسافت میں بے آرزو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں یوں کہو عمر برباد کر آئے ہیں
تھا سراب اپنا سرمایۂ جستجو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
اک جنوں تھا کہ آباد ہو شہر جاں اور آباد جب شہر جاں ہو گیا
ہیں یہ سرگوشیاں در بہ در کو بہ کو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
دشت میں رقص شوق بہار اب کہاں باد پیمائی دیوانہ وار اب کہاں
بس گزرنے کو ہے موسم ہاؤ ہو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہم ہیں رسوا کن دلی و لکھنؤ اپنی کیا زندگی اپنی کیا آبرو
میرؔ دلی سے نکلنے گئے لکھنؤ تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






